کاروار:25؍دسمبر(ایس اؤ نیوز)ڈپٹی کمشنر دفتر ہال میں ریاستی وزیر برائے ماہی گیر اور بندرگاہ کوٹا شری نواس پجاری نے ساگر مالا منصوبے کے تحت ٹیگور بیچ پر تعمیر کئے جارہے تحفظاتی دیوار کے متعلق افسران کے ساتھ جائزہ میٹنگ کا انعقاد ہوا۔
وزیر موصوف کی صدارت میں منعقد ہوئی میٹنگ میں تجارتی بندرگاہ کی دوسرے مرحلے کی توسیع سے ماہی گیری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ماحولیات کو بھی نقصان ہونے کا خیال ظاہر کیا گیا ۔ وزیر موصوف نے کہاکہ ابھی تک ریاست میں کہیں بھی بندرگاہ کی ترقی کو روکے جانے کی مثال نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود بیچ کی تعمیر کچھ اس طرح کی جائے گی کہ ماہی گیری اور ماہی گیر طبقے کے لئے کوئی نقصان نہ ہوا۔ بندرگاہ کی توسیع کو لےکر ڈائرکٹر کیاپٹن سی سوامی اور انجنئیر راتھوڈ نے پاور پرزنٹیشن کے ذریعے تفصیلات فراہم کیں۔ اس کے بعد وزیر نے عوام سے تبادلہ خیال کیا۔ جہاں ماہی گیر طبقے نے توسیع کو غیر سائنٹفک بتایا۔ ماہر ماحولیات ڈاکٹر وی این نایک نے بتایا کہ توسیع کے لئے کاروار سے زیادہ بیلکیری کی بندرگاہ مناسب ہونے کی بات کہی۔ صنعت کار پریتم ماسورکر نے بتایا کہ محکمہ اپنی زمین پرائیویٹ والوں کو استعمال کے لئے دی ہے ، اس کے علاوہ کئی مسائل کو پیش کرتے ہوئے توسیع کو روکنے کی مانگ کی۔ وکیل بی ایس پائی نے بھی توسیع سے ہونے والے نقصانات کو پیش کیا۔ میٹنگ میں ڈی سی ڈاکٹر ہریش کمار، سی ای او محمد روشن، اپر ڈی سی ناگراج سنگریر، ڈی وائی ایس پی ماریہال وغیرہ موجود تھے۔